ویکیپیڈیا میں خوش آمدید


منتخب مضمون


قدیم یروشلم شہر دیوار بند 0.9 مربع کلومیٹر (0:35 مربع میل) پر محیط علاقہ ہے، جو جدید شہر یروشلم میں واقع ہے عہد نامہ قدیم کے مطابق گیارہویں صدی قبل مسیح میں داؤد علیہ السلام کے شہر کی فتح سے قبل یہاں یبوسی قوم آباد تھی۔ عہد نامہ قدیم کے مطابق یہ مضبوط دیواروں کے ساتھ قلعہ بند شہر تھا۔ داؤد علیہ السلام جس قدیم شہر پر حکومت کرتے تھے جسے شہر داؤد (City of David) کہا جاتا ہے، موجودہ شہر کی جنوب مشرق دیواروں کی طرف باب مغاربہ سے باہر تھا۔ داؤد علیہ السلام کے بیٹے سليمان علیہ السلام نے شہر کو وسعت دی۔ فارسی سلطنت کے دور میں 440 قبل مسیح میں نحمیا نے بابل سے واپسی پر شہر کی تعمیر نو کی۔ 41-44 عیسوی میں یہودیہ کے ہیرودیس اغریپا نے ایک نئی دیوار تعمیر کی جسے تیسری دیوار (Third Wall) کہا جاتا ہے۔

مسلمانوں نے خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے تحت ساتویں صدی (637 عیسوی) میں یروشلم فتح کیا۔ سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران میں نماز کا وقت آ گیا، اور سوفرونیئس نے عمر کو گرجا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن عمر نے گرجا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے گرجا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے گرجا کی چابیاں عمر کو پیش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں، اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی گرجا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔ 1193ء میں اس واقعہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاں عثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔


بہترین مضمون


John Damascus (arabic icon).gif

مُقَدَّس يُوحْنَا دَمشقِی ایک سریانی راہب اور قس تھے۔ دمشق میں پیدا ہوئے، وہیں پرورش پائی اور اپنی خانقاہ واقع دیر مار سابا نزد یروشلم میں وفات پائی۔ یوحنا دمشقی ایک جامع العلوم قسم کے شخص تھے، ان کی دلچسپی کے شعبے ہمہ جہت تھے، جن میں قانون، الٰہیات، فلسفہ اور موسیقی سب شامل تھے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے نفاذِ فرمان (ordination) سے قبل دمشق کے مسلم خلیفہ کے ایک اعلیٰ منتظم کے طور پر بھی کام کیا۔ انہوں نے مسیحی عقائد کو بیان کرنے کے لیے متعدد کتابیں تحریر کیں اور کئی مناجات مرتب کیے جو لطوریائی طور پر آج تک مشرقی مسیحیت میں اور لوتھریت میں صرف ایسٹر کے موقع پر استعمال کی جاتی ہیں۔ وہ مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا کے ایک پادری اور تمثال (آئیکن) کے تحفظ کے لیے معروف ہیں۔ کیتھولک کلیسیا میں ان کو معلم کلیسیا، اور عروج مریم پر تصانیف کی وجہ سے اکثر معلمِ عروج (Doctor of the Assumption) کہا جاتا ہے۔ یوحنا دمشقی کی زندگی کی معلومات کا سب سے عام ماخذ جان آف یروشلم سے منسوب کتاب میں ملتا ہے، اِسی تحریر میں یوحنا یروشلم کے بطریق کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ یہ کتاب ابتدائی عربی متن سے منتخب کردہ ایک یونانی ترجمہ ہے۔ اصل عربی کتاب میں افتتاحیہ ہے، جو اس سے ترجمہ کی گئی کئی کتابوں میں موجود نہیں ہے، اس کے مصنف ایک عرب راہب میکائیل تھے۔



حالیہ واقعات


   حمایت میں ووٹ   مخالفت میں ووٹ   غیر حاضر   غیر جانب دار
   حمایت میں ووٹ
   مخالفت میں ووٹ
   غیر حاضر
   غیر جانب دار

ویکیپیڈیا کا حصہ بنیں!


ویکیپیڈیا ایک آزاد اور کثیر لسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت اردو ویکیپیڈیا میں 126,294 مضامین موجود ہیں۔

دیگر زبانیں
凡人修仙之仙界篇元尊圣墟汉乡一念永恒剑来